Friday, 17 May 2024
img
تحقیقاتی اور ڈیجیٹل صحافت کی دنیا میں انقلابی قدم --- اس کی کوریج ، جس کی کوئی کوریج نہیں کرتا --- ظلم ، ناانصافی کے خلاف برسرِپیکار
img

آرآئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے وفد کی عمران خان سے ملاقات،ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور اہلِ صحافت کیخلاف حکومتی سطح پر فسطائیت پر تبادل خیال

 وفد نے پی ٹی آئی دور میں صحافیوں پر تشدد ، مقدمات اور جبری برطرفیوں پر تحفظات سے آگاہ کیا 

 اپنے جلسوں میں اعلان کرونگا تمام میڈیا اداروں کے رپورٹرز اور کیمر ہ مینوں کو کوریج کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں، کسی کے ساتھ بد سلوکی نہ کی جائے، عمران خان کی یقین دہانی 


اسلام آباد(محمد ارشد سے )راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے مشترکہ وفد کی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات ، ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور اہلِ صحافت کیخلاف حکومتی سطح پر روا رکھے جانے والی فسطائیت پر تفصیلی تبادل خیال کیا گیا، میڈیا کارکنان کو درپیش مسائل اور فلاحی اقدامات کی ضرورت پر بھی مفصل بات چیت ہوئی، عمران خان نے کہا کہ میری جماعت میڈیا کے بل بوتے پر ہی اس مقام پر پہنچی ہے ۔


راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے مشترکہ وفد کی قیادت صدر آر آئی یو جے عابد عباسی، جنرل سیکرٹری آر آئی یو جے طارق علی ورک ،صدر نیشنل پریس کلب انور رضا اور سیکرٹری نیشنل پریس کلب خلیل راجہ نے کی۔ملاقات میں تحریک انصاف کی حقیقی آزادی کی تحریک اور اسکے ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے بقا ﺅ تسلسل پر اثرات بھی زیرِ بحث آئے، وفد نے پی ٹی آئی دور میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد ، مقدمات اور جبری برطرفیوں بارے آگاہ کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا ، وفد نے عمران خان حکومت کے وزراءکی جانب سے میڈیا کے ساتھ رابطوں کے فقدان اور جارحانہ رویوں سے متعلق بھی آگاہ کیا اور کہا کہ وزراءمیڈیا اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ اپنے جلسوں میں اعلان کریں گے کہ تمام میڈیا اداروں کے رپورٹرز اور کیمر ہ مینوں کو کوریج کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں کسی کے ساتھ بد سلوکی نہ کی جائے۔


وزیر اعظم بننے کے بعد اتنا مصروف ہو گیا کہ صحافتی تنظیموں سے ملاقات نہیں کر سکا مجھے صحافیوں کے ساتھ روابط رکھنے چاہئیں تھے،میں نے کبھی بھی تمام صحافیوں کو لفافہ صحافی نہیں کہا میں چند صحافیوں کی بات کی ملک میں بہت بہترین اور پروفیشنل صحافی بھی موجود ہیں جن کی بہت عزت کر تا ہوں،جو مشکل حالات میں بھی حق اور سچ کی آواز بلند کر تے ہیں،، تحریک انصاف اور میڈیا کا ایک ہی مقصد ہے کسی بھی معاشرے میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی بھی آرمی چیف ہو تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد آئین و قانون کی بالادستی سے عبارت ہے، عدل و انصاف کے قیام اور قانون کی حکمرانی کے بغیر خوشحال معاشرے کی تشکیل کا تصور ہی محال ہے، کرپٹ اشرافیہ نے محض اپنے مفادات کیلئے دستور و قانون کی پامالی کا کلچر پروان چڑھایا ہ امپورٹڈ سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی خصوصا میڈیا پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ بندشوں کی نظیر کسی آمر کے دور سے لانا بھی ناممکن ہے۔ دہشت گردی کے پرچوں سے اندراج سے چینلز کی بندشوں تک ہر حربہ آزمایا جارہا ہے،

عمران خان نے کہا کہ محض رائے کے اظہار پر بزرگ سینیٹر اعظم سواتی سمیت دیگر سیاسی کارکنان اور صحافیوں پر زیرحراست تشدد جیسی شرمناک روایت زندہ کی گئی، تحریک انصاف کی حقیقی آزادی کی تحریک ملک میں قانون کی حکمرانی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اہلِ قلم و دانش پر لازم ہے کہ ظلم و لاقانونیت کیخلاف کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر آواز بلند کریں دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تحریک کو بھرپور انداز میں منطقی انجام تک پہنچانے کی تیاری کررہے ہیں، فوری طور پر صاف شفاف انتخابات کا انعقاد موجودہ سیاسی و معاشی بحران سے نجات کا واحد ذریعہ ہے، انہوں نے کہا کہ میں نچلی سطح سے اوپر آیا ہوں میں وہ شخص نہیں ہو ں جو تنقید برداشت نہ کر سکے،اصل مسئلہ یہ ہے کہ مالکان نے اس لیے صحافتی ادارے نہیں بنائے کہ انہیں صحافت کا شوق ہے بلکہ اصل مقصد صحافت کا بلیک میل کر نے کے لیے استعمال کر نا ہے وہ صحافت کو استعما ل کر کے اپنے غیر قانونی کاروبار کو تحفظ دیتے ہیں،ٹیکس بچانا چاہتے ہیں یہ پورا مافیا بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو 50سال پہلے ہم سے پیچھے تھے آج ہم سے آگے نکل چکے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان ممالک نے طاقتور لوگوں کو قانون کی گرفت میں لایا کرپشن کے خلاف کارروائی کی۔


انہوں نے کہا کہ ورکنگ جر نلسٹس محنت کش لوگ ہیں میری جماعت میڈیا کے بل بوتے پر ہی اس مقام پر پہنچی ہے ،انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین اتنے مشکل تھے کہ میری ذاتی زندگی ختم ہو گئی تھی صرف کرونا ہو نے کے بعد 5دن چھٹی کی اس کے علاوہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کوئی چھٹی نہیں کی،انہوں نے تسلیم کیا کہ میں وزیر اعظم بننے کے بعد اتنا مصروف ہو گیا کہ صحافتی تنظیموں سے ملاقات نہیں کر سکا مجھے صحافیوں ساتھ روابط رکھنے چاہئیں تھے،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھی تمام صحافیوں کو لفافہ صحافی نہیں ہمیں یہ کہا کہ بعض صحافی لفافہ صحافی ہیں ملک میں بہت بہترین اور پروفیشنل صحافی موجود ہیں جن کی عزت کر تا ہوں،جو مشکل حالات میں بھی حق اور سچ کی آواز بلند کر تے ہیں،صحافتی تنظیموں کو اپنے ساتھیوں کے حقوق کی آواز بلند کر نا چاہیئے،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور میڈیا کا ایک ہی مقصد ہے کسی بھی معاشرے میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں میڈیا کا کردار مزید بڑھ جائے گا یہ کردار آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن سے صرف اس لیے بھاگ رہے ہیں تاکہ مجھے نا اہل کرادیں۔آزادی مارچ کا فیصلہ بہت جلد ہو گا موجودہ حکمرانوں کے نیچے زندگی گزارنے سے بہتر ہے مرجاﺅ۔انہوں نے کہا کہ مجھے ناکامی اس لیے ہوئی ہماری اتحادی حکومت تھے اگر آئندہ ایسی اتحادی حکومت ملی تو کبھی نہیں کروں گا


انہوں نے کہا کہ ہم اپنے جلسوں میں اعلان کریں گے کہ تمام میڈیا اداروں کے رپورٹرز اور کیمر ہ مینوں کو کوریج کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں کسی کے ساتھ بد سلوکی نہ کی جائے سوشل میڈیا پر میڈیا اور صحافیوں کے خلاف غلط زبان استعما ل کر نے والوں کو بار بار منع کیا ۔