Friday, 17 May 2024
img
تحقیقاتی اور ڈیجیٹل صحافت کی دنیا میں انقلابی قدم --- اس کی کوریج ، جس کی کوئی کوریج نہیں کرتا --- ظلم ، ناانصافی کے خلاف برسرِپیکار
img

..ٹرانس جینڈر ایکٹ کی مکمل حقیقت.............. تحریر (شبانہ ایاز)


زیادہ ترلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرانسجینڈرایکٹ خنثیٰ(خواجہ سراء)کوتحفظ دینے کاقانون ہےتو پھراسکی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟ ایسے افرادجو پیدائشی طورپر جنسی نقص کاشکارہوتے ہیں انہیں خنثیٰ(خواجہ سراء)اورانٹرسیکس کہتے ہیں،جیسے بینائی اورسماعت سے محروم اورکسی بھی جسمانی معذوری کےباعث والدین اپنے بچوں کوخاندان سےباہرنہیں نکالتے،اسی طرح پیدائشی طورپرجنسی نقص کا شکاربچوں۔کوبھی خاندان سے نہیں نکالنا چاہیے۔اسلام ایسےافرادکو تیسری جنس کہہ کرمعاشرے سے باہرنہیں نکالتابلکہ انہیں مرد،عورت، مذکر مونث کانام دیتاہے،ایسے افراد اچھوت نہیں بلکہ وہ بھی فیملی کا حصہ ہوتے ہیں،اسلام انہیں مرد، عورت کے تمام شرعی حقوق دیتا ہےاور انکی عزت کاپوراخیال رکھتا ہے یہ کم علمی اورجہالت ہےکہ جنسی برتھ ڈیفیکٹ(خنثیٰ)کے باعث ان افرادکونام نہادگرووں کے حوالے کردیاجائے جوانہیں روپ بدل کرناچ گانے،سیکس ورکربننے پر مجبور کریں۔یہ توسراسرظلم اور انسانیت کےخلاف سنگین ترین گناہ ہےہوناتو یہ چاہیے تھاکہ ٹرانسجینڈر ایکٹ میں ان مظلوموں کاخیال کرتے ہوئےانہیں حقیقی تحفظ دیاجاتااورصدیوں سے رائج اس گندے نظام کوبدلاجاتااس ایکٹ میں خنثیٰ افراد کو گھروں سے نکال کر گرووں کےحوالےکرنےپرسزا کا تعین کیاجاتاانہیں والدین، دادا،دادی، نانا، نانی کی تحویل میں رکھےجانے پر پابندکیاجاتا۔پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 35میں خاندان،ماں اوربچے کےتحفظ کویقینی بنانےکی ضمانت دی گئی ہے،خنثی بچے یا فرد کو خاندان سے کاٹ کرایک ظالم جرائم پیشہ گرووکےحوالےکردینا نام نہاد انسانی حقوق اورچائلڈ رائٹس کمیشن(سی آر سی)کی خلاف ورزی ہےاگراس قانون کامقصد خنثیٰ یعنی انٹرسیکس افرادکوحقوق دینا تھاتو اسکانام ٹرانسجینڈرایکٹ کیوں رکھا گیا؟ اس کانام انٹرسیکس پرسن پروٹیکشن رائٹ ایکٹ 2018 رکھا جاتا توجواعتراض پیدا ہواہے وہ نہ ہوتا درحقیقت خنثیٰ (مخنث) افراد کی آڑلیکرٹرانسجینڈرکےتحفظ کیلئے یہ قانون بنایا گیاہےٹرانسجینڈرایک امبریلاٹرم ھےیعنی ایک ایسی چھتری جسکے نیچے ماڈرن نظریہ جنس اورہم جنس پرستوں کی تمام اقسام اپناگھناؤناکام کرتی ہیں۔یہ ایکٹ یوگیاکارتا پرنسپل10کے ایجنڈے کو پاکستان میں نافذکرنے کیلئےبنایاگیاہےجودنیابھرمیں(ایل جی بی ٹی کیو)نظریات یعنی ہم جنس پرستی اورجنسی بے راہ روی کو قانونی حیثیت دینےکیلئےکام کرتا ہے یہ قانون ایک نئے شیطانی نظریہ جنس پربنایا گیا ہےجس میں جنس کواختیاری قراردیاگیاہےاس قانون کےتحت کوئی بھی شخص ذاتی احساسات کی بنیادپراپنی جنس تبدیل کر سکتا ہےجو کہ شرعاً حرام اورقابل سزاجرم ہے۔2021 کی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اس ایکٹ کے تحت 28,723لوگ اپنی جنس تبدیل کرواچکےہیں۔اسی قانون کےتابع ٹرانس جینڈررولز 2020 کے تحت ہرکوئی سرجری یا ہارمونزتھیرپی کرواکر اپنی جنس تبدیل کرسکتاہےرولز2020 میں جس دستاویز کے تحت اجازت دی گئی ہے مطابق ہےجس کا ہرجملہ شریعت سے متصادم ھے۔آئیے مذید حقیقت پر سے پردہ اٹھائیں اور دیکھیں کہ ٹرانسجینڈرایکٹ کے اندر کیاچھپاہواہے؟ ٹرانس جینڈرایکٹ درحقیقت نئے نظریہ جنس پرڈرافٹ کیا گیا ہےجو(ایل جی بی ٹی کیو)کو قانونی جوازفراہم کرتاہے ٹرانس جینڈرایکٹ کی سنگینی کوسمجھنے کیلئےچنداصطلاحات کاجنس کے مطابق جینڈراورسکس سمجھنا بہت ضروری ہے۔نئے نظریہ کی تعریف الگ الگ کی جاتی ہےاور یہی تقسیم اس باطل نظریے کی بنیادہے۔اقوام متحدہ ہم جنس پرستی کو عالمی تحفظ فراہم کرنے والا ادارہ ہے اس کے ذیلی ادارے کے مطابق اس کی الگ الگ خودساختہ تعریفیں بیان کی جاتی ہیں۔جنس کا مطلب مردوں اورعورتوں کی مختلف جسمانی خصوصیات ہیں صنف سے مراد عورتوں مردوں،لڑکوں،لڑکیوں کی خصوصیات جو سماجی طورپر تعمیرکی گئی ہیں۔اس میں عورت اورمردہونے کےساتھ ساتھ ایک دوسرےکے تعلقات سے منسلک اصول  رویے اورکردارشامل ہیں۔یہ صنف ہر معاشرے میں مختلف بھی ہوسکتی ہے اوروقت کے ساتھ ساتھ بدل بھی سکتی ہے۔یہ ہے وہ بنیادی خرابی جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ یہ اللہ کے قانون تخلیق کو بدلنے والی بات ہے۔نظریہ جنس نے جینڈرکو جنس سے مختلف بتانا شروع کر دیا اوراللہ کی تخلیق کردہ جنس کوظاہراور باطن میں تقسیم کرکے دونوں میں انسان کواپنی مرضی سے تبدیلی کی اجازت اورمکمل آزادی دے دی۔اس کےبعد سیکس اورجینڈرکی ان تعریفات کی بنیاد پر مزید گمراہ کن اصطلاحات  متعارف کروائیں گئیں۔اس اصطلاح سے مراد کسی فرد کی وہ گہری رومانی،جذباتی،کشش جسمانی تعلق یااحساس ہےجووہ کسی دوسرے فرد کیلئے محسوس کرتا ہے۔ یعنی ایک فرد کاجذباتی رجحان سیکس اورینٹیشن کہلاتا ہے،اسے مکمل جنسی آزادی کہتے ہیں(جبکہ شریعت مرداور عورت کو نکاح کا پابند کرتی ہے)یہ وہ جنسی شناخت ہے جو کوئی فرد اپنے اندرونی اورباطنی احساسات اوررجحانات کی بنیاد پراختیار کرتا ہے۔یہ اسکی پیدائش،جنسی شناخت اورمعاشرےکیطرف سےدی گئی شناخت کے مطابق بھی ہوسکتی ہے اوراسکےغیرمطابق بھی،یعنی جنسی شناخت اختیار کرنےکی مکمل آزادی اس تعریف سے یہ ثابت کیاجاتاہے کہ ایک مرد جب چاہے عورت کی شناخت لے،لے یاعورت مرد کی شناخت لے،لے(شریعت میں ایسی کوئی آزادی موجود نہیں،پیدائشی جنسی شناخت بدلنا قطعی حرام  ہے،ایک فرداپنی مرضی سے اپنے لیے جو جنسی شناخت اختیار کرتا ہے وہ چاہے تو اس کااظہارکرےاورچاہے تونہ کرےیعنی جب چاہے خودکو عورت ظاہرکرےاورجب چاہےخود کو مردظاہر کرے(شریعت میں مردوں کاعورتوں کی مشابہت اورعورتوں کامردوں کی مشابہت حرام ہے)کسی بھی قانون میں تعریفات کوبنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے،پاکستان کے ٹرانسجنڈر ایکٹ2018 کی تعریفات میں آرٹیکل 2 کی شق ای اورایف

میں جینڈر ایکسپریشن اور جینڈر آئیڈنٹٹی میں یہی دو تعریفات نئے نظریہ جنس اور(ایل جی بی ٹی کیو)نظریات کی بنیادہےجو ہم جنس پرستی کوجواز فراہم کرتی ہیں۔اس قانون میں سیکچوئل اورینٹیشن کو براہ راست تونہیں لکھا گیامگراس قانون میں اس کوجواز فراہم کیاگیا ہے۔اس ایکٹ کےحوالے سے یہ دھوکہ دیاجارہا ہے کہ یہ بل خواجہ سراؤں کی وراثت کیلئے بنایاجارہاہےجسکی جسمانی ساخت عورت کیطرح ہے اسےعورت قراردےدیاجائے اورجو مرد،مردجیسی جسمانی ساخت رکھتا ہے وہ مردلکھ دیاجائےاسے وراثت میں حصہ مل جائےلیکن اس کی تشخیص کیلئےمیڈیکل بورڈ کاکہیں بھی ذکرنہیں ہےتینوں صوبائی اسمبلیوں میں اس ایکٹ کو مستردکرنےکی قراردادیں پیش کی گئی ہیں اس ایکٹ کواسلامی نظریاتی کونسل اوربغیر قائمہ کمیٹی کو بھیجے عجلت میں منظور کرلیا گیا تھا پاکستان کے آئین کے آرٹیکل RL227 اورشریعت ایکٹ 1991 کے مطابق کسی غیر شرعی قانون کا نفاذ پاکستان میں ممکن نہیں۔اس بل کو جید علمائے کرام اور اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام کےخلاف قرار دیاہےاور اس قانون کو(ایل جی بی ٹی کیو)ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیاہے خنثیٰ (خواجہ سراء) معاشرے میں بہت تھوڑے ہیں یہ نظرانداز مظلوم طبقہ ہے۔انکی آڑ میں اس ایکٹ کے ذریعے ہم جنس پرستی کو فروغ دیا گیا ہے۔مذید کیا نقصانات متوقع ہیں؟ ٹرانسجینڈرقانون کے تحت ہم جنس پرستوں کی شادی کاراستہ ہموار کردیاگیا ہے اوراس شادی کوقانونی جوازدیاگیا ہے۔اس قانون کےتحت ان خواجہ سراؤں کوتحفظ دیاگیاہےجو کہ اصل میں مردہیں جو کہ ناچ گانے اورجنسی جرائم میں ملوث ہیں اسی قانون کےتحت ہم جنس پرستوں کو معززشہری بنادیاگیاہےانہیں مجرموں کی فہرست سے نکال کر  سرکاری عہدہدار بنانےکی اجازت دے دی گئی ہےاسی طرح اس قانون کے تحت کوئی مرد شناختی کارڈ میں جنس عورت لکھوا کرخواتین کے تعلیمی اداروں میں پڑھ سکتاہےاور پڑھابھی سکتا ہے۔اسی طرح کوئی بھی عورت شناختی کارڈ میں جنس مردلکھوا کروراثت میں ڈبل حصہ لے سکتی ہےمسجد میں امامت کروا سکتی ہے،مردوں کی صف میں ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکتی ہے۔یہ قانون پاکدامنی کی حوصلہ شکنی کرتاہےاورجنسی مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔یہ قانون ہمارے نظام معاشرت، وراثت، نکاح, تعلیم اورتمام اسلامی اقدار پرمنفی اثرڈالتاہےاوریہ آئین پاکستان کے بھی منافی ہے۔آئین پاکستان کی شق 227 کے مطابق تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت کے احکام کے مطابق بنائے جانےکاحکم ہےاس ایکٹ کے تحت نادرہ سمیت تمام حکومتی اداروں کو پابند کیاگیاہے کہ جنس بدلنے والوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جاری کریں۔سوال یہ ہے کہ یہ قانون بنایاکس کس نےہے؟ یہ بل21 اگست 2017 کو سینیٹرروبینہ خالد(پپلز پارٹی)،سینیٹر ثمینہ عابد(پی ٹی ائی)،سینیٹر کلثوم پروین مسلم لیگ (ن)،سینیٹر روبینہ عرفان مسلم لیگ (ق)نے متعارف کرایا اور 2018 میں یہ ایکٹ بنا۔2018 میں حکومت، پاکستان مسلم لیگ نون کی تھی پرائم منسٹر شاہد خاقان عباسی تھے،پپلز پارٹی کےسینٹرز کریم احمد خواجہ اور روبینہ خالدنے بل پیش کیا۔ایم کیوایم کی سینیٹرنسرین جلیل سینیٹ کمیٹی کی چئیرپرسن تھی اورریاست مدینہ کے دعویدار پی ٹی آئی نےبھی قومی اسمبلی اورسینیٹ میں اسے پاس کروا کر پورے ملک میں نافذ کروایا پھرجب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تواس حکومت نے اس قانون کوکالعدم قراردینے کے بجائےانکی رہنما شیریں مزاری نے اپنی سربراہی میں اس قانون کےنفاذکواور زیادہ موثربنادیا اور ٹرانسجینڈررولز 2020 بالآخر نافذ کردیئے۔جماعت اسلامی نےاس ایکٹ کی بھرپورمخالفت کی اور سینیٹرمشتاق احمدخان نے اس میں ترامیم کی کوشش کی۔پی ٹی آئی کی شیریں مزاری نےان ترامیم کی مخالفت میں شدیدمزاحمت دکھائی۔بہرحال یہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیاگیاہےجہاں اس بل پرپہلی میٹنگ 5ستمبر2021 کو ہوچکی ہےیہ کمیٹی اگلے ماہ اکتوبر 2022 میں یہ ترامیم منظوریا مستردکرے گی ان ترامیم کے مطابق اس ایکٹ میں ٹرانسجینڈرکی تعریف نمبر دو اورتعریف نمبر3جس میں مکمل مرد اورمکمل عورت کو ٹرانسجینڈر قرار دیاگیاہے کےخاتمے کامطالبہ ہے۔ٹرانسجینڈرکےتعین کیلئےذاتی تصور کی ہوئی جنسی شناخت کے بجائے اسے میڈیکل بورڈ سےمشروط کئے جانے اورمیڈیکل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنےکامطالبہ کیاگیا ہے۔اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر، پروفیسر، سرجن، گائنا کولو جسٹ اورسائیکالوجسٹ شامل ہوں جو فیصلہ کریں کہ یہ واقعی خنثیٰ ہےیانہیں۔